کراچی کی ایک مقامی عدالت نے بدھ کے روز منشیات کی عالمی سطح پر سپلائی اور تیاری کے نیٹ ورک کی مبینہ سربراہ انمول عرف پنکی کو مزید تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ عدالت نے تفتیشی افسر کو حکم دیا ہے کہ ملزمہ سے نیٹ ورک کے دیگر مفرور ارکان کے بارے میں تفتیش مکمل کر کے جامع رپورٹ پیش کی جائے۔

جوڈیشل مجسٹریٹ (ساؤتھ) کے سامنے گارڈن پولیس نے ملزمہ کو پیش کیا اور موقف اختیار کیا کہ ملزمہ سے برآمد ہونے والی ایک کلو گرام سے زائد کوکین اور مختلف کیمیکلز کے حوالے سے مزید تفتیش درکار ہے۔ پولیس کے مطابق انمول عرف پنکی کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے پوش علاقوں میں ہائی گریڈ کوکین فراہم کرنے والے ایک منظم گروہ کی کلیدی رکن ہے، اور اس کے نیٹ ورک کے دیگر مفرور ارکان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ کے قبضے سے ملنے والے موبائل فونز کا فارنزک ڈیٹا حاصل کیا جا رہا ہے تاکہ ان کے گاہکوں اور سپلائرز کے بین الاضلاعی روابط کا سراغ لگایا جا سکے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی استدعا منظور کر لی۔
خبر کے پس منظر میں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ پیشی کے دوران ملزمہ کو بغیر ہتھکڑی کے عدالت لانے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس پر ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے سخت نوٹس لیا تھا۔ اس واقعے کی محکمانہ انکوائری ابھی جاری ہے تاکہ ان پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جا سکے جنہوں نے ملزمہ کو غیر قانونی طور پر ‘وی آئی پی پروٹوکول’ فراہم کیا۔


