پاکستان نے سنگاپور کی حکومت سے باضابطہ طور پر رابطہ کیا ہے تاکہ امریکی بحریہ کے قبضے میں موجود بحری جہازوں پر سوار پاکستانی شہریوں اور ایرانی باشندوں کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق، یہ بحری جہاز حالیہ کشیدگی کے دوران امریکی بحریہ نے مشرقِ وسطیٰ کے پانیوں میں قبضے میں لیے تھے۔ پاکستانی حکام نے سنگاپور سے درخواست کی ہے کہ وہ ان جہازوں پر موجود عملے کی وطن واپسی (وطن واپسی) کے لیے اپنا سفارتی اثر و رسوخ اور تعاون فراہم کرے۔ ان جہازوں پر کئی پاکستانی شہری اور ایرانی باشندے موجود ہیں جو اس وقت قانونی اور سفارتی پیچیدگیوں کی وجہ سے پھنسے ہوئے ہیں۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سنگاپور کی بندرگاہیں اور سمندری قوانین بین الاقوامی تجارت میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں، اسی لیے پاکستان اسے اس مسئلے کے حل کے لیے ایک اہم ثالث کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ اس رابطے کا مقصد نہ صرف پاکستانی شہریوں کی رہائی ہے بلکہ خطے میں بڑھتے ہوئے بحری تناؤ کو کم کرنے کے لیے انسانی بنیادوں پر راستہ نکالنا بھی ہے۔ سنگاپور کی جانب سے ابھی تک اس درخواست پر باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم سفارتی سطح پر مشاورت جاری ہے۔


