ایک اسرائیلی حقوقی تنظیم شوریٰ حدیث نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) سے مطالبہ کیا ہے کہ اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز کے خلاف قانونی کارروائی پر غور کیا جائے۔ تنظیم کا الزام ہے کہ اسپین نے ایران کو ایسے صنعتی پرزہ جات فراہم کیے جو مبینہ طور پر عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ درخواست رومن اسٹیچوٹ کے آرٹیکل 15 کے تحت دائر کی گئی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسپین نے تقریباً 1.3 ملین یورو مالیت کی “دوہری استعمال کی اشیاء” (دوہری استعمال کی مصنوعات) برآمد کرنے کی منظوری دی۔ ان اشیاء کو مبینہ طور پر دھماکہ خیز آلات اور ڈیٹونیٹرز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
شورات ہاڈین کے مطابق یہ مواد بظاہر صنعتی نوعیت کے ہیں، لیکن ان کا استعمال ایسے آلات میں بھی ہو سکتا ہے جو حملوں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ تنظیم نے دعویٰ کیا کہ ان کی منتقلی ایسے حالات میں ہوئی جہاں شہریوں کے خلاف استعمال کا خدشہ “متوقع اور قابلِ پیش گوئی” تھا۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ جنگی قوانین کی ممکنہ خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، اسی لیے آئی سی سی سے اس پر غور کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
تاہم اس حوالے سے اسپین یا بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔


