پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (FIA) کے سائبر کرائم ونگ نے ہتکِ عزت کی ایک انکوائری کے سلسلے میں تین نارویجن شہریوں کو طلب کر لیا ہے۔ یہ اقدام ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بڑھتے ہوئے توہین آمیز مواد اور قانونی ضابطوں کی خلاف ورزی کے خلاف پاکستانی کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، ایف آئی اے نے ان غیر ملکی شہریوں کو اس وقت طلب کیا جب ابتدائی تحقیقات میں ان کے خلاف سوشل میڈیا پر پاکستانی شہریوں اور اداروں کے خلاف "منظم ہتکِ عزت” (Defamation) کی مہم چلانے کے شواہد ملے۔ متعلقہ حکام نے انکشاف کیا کہ ان افراد نے آن لائن مواد کے ذریعے نہ صرف قانونی حدود عبور کیں بلکہ اشتعال انگیزی اور جھوٹے الزامات بھی پھیلائے۔
ذرائع کے مطابق، پاکستانی حکام نے اس معاملے پر ناروے کی حکومت کے ساتھ بھی رابطہ کیا ہے تاکہ قانونی تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔ انکوائری کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا ان افراد کی کارروائیاں انفرادی تھیں یا اس کے پیچھے کوئی منظم گروہ ملوث ہے۔ ایف آئی اے کا موقف ہے کہ پاکستان کی سائبر حدود میں کی جانے والی کسی بھی خلاف ورزی پر ملزم کے مقام سے قطع نظر قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کیس بیرونِ ملک مقیم افراد کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ سوشل میڈیا پر پاکستانی قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر انہیں جوابدہ ہونا پڑے گا۔ حالیہ مہینوں میں ایف آئی اے نے ڈیجیٹل ہتکِ عزت کے مقدمات میں غیر معمولی تیزی دکھائی ہے تاکہ آن لائن بدتمیزی اور کردار کشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکا جا سکے۔


