بھارتی فضائیہ نے ایک بار پھر اپنی ’بے مثال‘ ٹیکنالوجی اور ’حیرت انگیز‘ مہارت کا ثبوت دیتے ہوئے پونے ایئرپورٹ کے رن وے کو گھنٹوں کے لیے تالا لگوا دیا۔ ہوا کچھ یوں کہ ایک فوجی طیارے نے لینڈنگ کے وقت یہ فیصلہ کیا کہ پہیے کھولنا تو شاید پرانے فیشن کی بات ہے، چنانچہ ’انڈر کیریج فیلئر‘ کے خوبصورت بہانے کے ساتھ طیارے نے رن وے پر ہی لیٹ کر آرام کرنے کو ترجیح دی۔ اس ’کمال‘ کی لینڈنگ کو تکنیکی زبان میں تو ’ہارڈ لینڈنگ‘ کہا جا رہا ہے، لیکن حقیقت میں یہ رن وے پر بھارتی فضائیہ کا وہ زبردستی کا قیام تھا جس نے درجنوں سویلین پروازوں کے شیڈول کو کاغذ کے جہاز کی طرح ہوا میں اڑا دیا۔
پونے ایئرپورٹ کے رن وے پر اس ’ناگہانی سستی‘ کی وجہ سے مسافروں کو وہ خوشی نصیب ہوئی جس کا انہوں نے خواب میں بھی تصور نہیں کیا تھا—یعنی ایئرپورٹ کے لاؤنجز میں بیٹھ کر گھنٹوں تک انتظامیہ کی شکلیں دیکھنے کا نادر تجربہ۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ طیارے نے کسی سویلین پراپرٹی کو نقصان نہیں پہنچایا، سوائے ان سینکڑوں مسافروں کے قیمتی وقت اور صبر کے، جو اپنی منزل پر پہنچنے کے بجائے رن وے پر لیٹے اس ’آہنی پرندے‘ کے اٹھنے کا انتظار کر رہے تھے۔
انتظامیہ نے کئی گھنٹوں کی ’تگ و دو‘ کے بعد طیارے کو رن وے سے یوں ہٹایا جیسے کسی ضدی بچے کو کھلونوں کی دکان سے زبردستی اٹھایا جاتا ہے۔ اس دوران پونے کا فضائی آپریشن مکمل مفلوج رہا اور مسافروں کو یہ اہم سبق ملا کہ اگر رن وے پر بھارتی فضائیہ کا طیارہ موجود ہو، تو آپ کی پرواز کا وقت محض ایک ’مشورہ‘ ہے، حقیقت نہیں۔ خوش قسمتی سے ایئرکرو محفوظ رہا، شاید انہیں پہلے ہی معلوم تھا کہ ان کا طیارہ آج پہیوں کے بجائے اپنی ’انا‘ پر لینڈ کرنے والا ہے۔ اب رن وے بحال تو ہو گیا ہے، لیکن مسافر اب بھی آسمان کی طرف دیکھ کر یہی دعا کر رہے ہیں کہ اگلی بار کوئی طیارہ اپنا ’سامانِ لینڈنگ‘ گھر نہ بھول آئے۔


