خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں پولیس گشت کو نشانہ بناتے ہوئے ہونے والے IED حملے نے ایک بار پھر سیکیورٹی صورتحال پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ Lakki Marwat میں پیش آنے والے اس واقعے میں کم از کم پانچ پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جن میں ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر بھی شامل ہے۔
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے حملے عام طور پر ان علاقوں میں کیے جاتے ہیں جہاں دہشتگرد عناصر پہلے سے موجود ہوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھ رہے ہوں۔ IED یعنی دیسی ساختہ بم کا استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حملہ آوروں نے پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت پولیس کو نشانہ بنایا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لکی مروت اور اس سے ملحقہ علاقوں میں حالیہ مہینوں میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدت پسند گروہ دوبارہ منظم ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس طرح کے حملے نہ صرف سیکیورٹی فورسز بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں، کیونکہ اکثر ایسے دھماکوں میں قریبی علاقے بھی متاثر ہوتے ہیں۔
سابق پولیس افسران کا ماننا ہے کہ پولیس گشت کے روٹس اور ٹائمنگ کو خفیہ رکھنا انتہائی ضروری ہوتا ہے، کیونکہ معمول کے پیٹرن کو فالو کرنے سے دہشتگردوں کو حملے کا موقع مل جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جدید ٹیکنالوجی جیسے ڈرون سرویلنس اور بم ڈسپوزل یونٹس کی موجودگی بھی ایسے واقعات کو روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔


