برطانوی جریدے دی گارڈین نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے بھارتی معیشت پر پڑنے والے اثرات کی تفصیل پیش کی ہے، جس میں خاص طور پر کسان طبقے کو لاحق مسائل واضح کیے گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران میں جاری کشیدگی کے باعث بھارت کے کسان خوف اور اضطراب کا شکار ہیں، کیونکہ عالمی سپلائی چین متاثر ہونے کے سبب تیل اور کھاد کی شدید قلت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ پنجاب کے کسان گروِندر سنگھ نے دی گارڈین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جنگ اب ہمارے لیے براہِ راست بحران بن گئی ہے، اور اس بار چاول کی فصل کی پیداوار بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
بھارت سالانہ تقریباً چھ کروڑ ٹن کھاد استعمال کرتا ہے، جس کے خام مال کی درآمدگی کے لیے وہ آبنائے ہرمز پر انحصار کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والا گیس، پیٹرول اور کھاد کا بحران یہ واضح کرتا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کے خودانحصاری کے دعوے مکمل طور پر ناکافی اور کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ بھارتی کسان پہلے ہی امریکا کے ساتھ کیے گئے معاہدوں اور بڑھتے ہوئے زرعی اخراجات کے خلاف سراپا احتجاج تھے، لیکن اب کھاد کے بحران نے انہیں مزید شدید معاشی مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ کسان تنظیموں نے حکومت سے فوری اقدامات اور سبسڈی کے اعلان کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ پیداوار متاثر ہونے سے بچائی جا سکے اور زرعی شعبے کو استحکام فراہم کیا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ بحران طویل مدت تک برقرار رہا تو بھارت کی زرعی پیداوار اور خوراک کی قیمتیں دونوں متاثر ہوں گی، جس کا اثر عام شہریوں کی زندگی پر بھی پڑے گا۔


