لبنان کے جنوبی علاقوں میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے عالمی برادری، خاص طور پر مسیحی برادری کے جذبات کو شدید مجروح کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں ایک اسرائیلی فوجی کو لبنان کے ایک مقامی چرچ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مقدس مجسمے کی بے حرمتی کرتے اور اسے توڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب لبنان میں جاری کشیدگی کی وجہ سے پہلے ہی انسانی جانوں اور بنیادی ڈھانچے کا بھاری نقصان ہو رہا ہے۔ اس وحشیانہ فعل کی ویڈیو سامنے آتے ہی دنیا بھر میں غم و غصے کی شدید لہر دوڑ گئی ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔
مسیحی مذہبی رہنماؤں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس بزدلانہ حرکت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ویٹیکن سمیت مختلف بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس واقعے کا نوٹس لیں اور ذمہ دار فوجی کے خلاف جنگی جرائم کے تحت کارروائی کی جائے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جنگی حالات میں بھی عبادت گاہوں اور مذہبی علامات کا احترام لازمی ہے، لیکن اسرائیلی فورسز کی جانب سے مسلسل ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جو مذہبی منافرت کو ہوا دے رہے ہیں۔ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ اسرائیلی اہلکاروں کی جانب سے مذہبی مقدسات کی توہین کی ویڈیوز سامنے آئی ہوں، اس سے قبل مساجد میں بھی اسی طرح کی اشتعال انگیز کارروائیاں ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔
لبنان میں موجود مسیحی برادری نے اس واقعے کو لبنان کی کثیر الثقافتی شناخت اور مذہبی رواداری پر حملہ قرار دیا ہے۔ باخبر نیوز کی رپورٹ کے مطابق، سوشل میڈیا صارفین اس فوجی کی شناخت کر کے اسے عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کی اشتعال انگیزیاں خطے میں پہلے سے موجود تناؤ کو مزید ہوا دے سکتی ہیں، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔ عالمی سطح پر اس واقعے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ جنگ کے دوران انسانی اور مذہبی اقدار کو جس طرح پامال کیا جا رہا ہے، وہ بین الاقوامی برادری کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔


