مشرقِ وسطیٰ کے جیو پولیٹیکل منظرنامے پر سامنے آنے والی اس اہم ترین رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ‘ابراہیمی معاہدے’ کا حصہ بننے اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی مروجہ تجویز اور دباؤ کو حتمی طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، سعودی قیادت اور دفترِ خارجہ نے اپنے دیرینہ سفارتی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے واشنگٹن کو واضح کر دیا ہے کہ ریاض کے لیے فلسطین کا معاملہ سب سے پہلی اور سب سے اہم ‘ریڈ لائن’ ہے۔
رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں خطے کے تمام عرب اور مسلم ممالک کو ابراہیمی معاہدے میں شامل ہونے کی ترغیب دی تھی اور اسے ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ علاقائی امن فریم ورک سے جوڑنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم، سعودی عرب نے اپنے اصولی موقف پر قائم رہتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جب تک 1967ء کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد، خودمختار اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں نہیں آتا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم (القدس) ہو، تب تک اسرائیل کو تسلیم کرنے یا کسی بھی ایسے معاہدے پر دستخط کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
عالمی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے اس دوٹوک انکار نے امریکی انتظامیہ کے اس مشرقِ وسطیٰ وژن کو بڑا سفارتی دھچکا پہنچایا ہے جس کے تحت وہ خطے میں اسرائیل کی غیر مشروط قبولیت چاہتے تھے۔ سعودی عرب کی اس مضبوط اور جرات مندانہ خارجہ پالیسی نے نہ صرف فلسطینی عوام کی امنگوں کی ترجمانی کی ہے، بلکہ پاکستان سمیت دیگر اہم مسلم ممالک کو بھی ایک واضح سفارتی گائیڈ لائن فراہم کی ہے، جو معاشی یا سیاسی ترغیبات کے بدلے فلسطین کے بنیادی حق پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔


