شدید عوامی ردعمل کے بعد میٹا نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس امیج جنریشن فیچر مستقل طور پر ختم کر دیا

فیس بک اور انسٹاگرام کی بنیادی کمپنی میٹا نے پرائیویسی تحفظات پر دنیا بھر سے آنے والے شدید عوامی اور صنعتی ردِعمل کے بعد اپنے حال ہی میں متعارف کروائے گئے متنازع آرٹیفیشل انٹیلیجنس امیج جنریشن فیچر "میوز امیج” کو مستقل طور پر بند کرنے کا بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔ رواں ہفتے شروع کیے گئے اس فیچر کے تحت کوئی بھی صارف میٹا اے آئی چیٹ بوٹ میں کسی بھی پبلک انسٹاگرام اکاؤنٹ کو ٹیگ یا مینشن کر کے اس مخصوص صارف کی تصاویر کو کسی بھی نئی ڈیجیٹل تصویر یا ڈیپ فیک میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا، جس کے خلاف ہالی ووڈ یونین سمیت دنیا بھر کے فنکاروں اور پرائیویسی تنظیموں نے شدید آواز اٹھائی۔

اس تنازع کی بنیادی وجہ کمپنی کی جانب سے اس فیچر کو تمام پبلک اکاؤنٹس کے لیے پہلے سے ہی خودکار طور پر فعال رکھنا تھا، جس کا مطلب تھا کہ صارفین کی واضح اجازت کے بغیر کوئی بھی اجنبی ان کی چہروں کی شباہت اور تصاویر کو من پسند اے آئی ڈیزائننگ کے لیے استعمال کر سکتا تھا۔ میٹا نے اپنے وضاحتی بیان میں اعتراف کیا ہے کہ کمپنی کا مقصد ایک مفید تخلیقی ٹول فراہم کرنا تھا لیکن یہ فیچر عوامی توقعات اور جذبات پر پورا اترنے میں بری طرح ناکام رہا ہے، اس لیے اسے فوری طور پر سسٹم سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ہالی ووڈ کی معروف ٹیلنٹ ایجنسیوں اور اداکاروں کی تنظیم نے میٹا کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی تخلیق کار یا صارف کی ڈیجیٹل شناخت کو ان کی تحریری رضامندی کے بغیر استعمال کرنا بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے