سندھ کے سینئر وزیر سعید غنی نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معیشت اور آبی جارحیت کے خطرات پر سخت مصلحتی ردِعمل دیتے ہوئے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو دوٹوک انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر پاکستان کے 25 کروڑ شہریوں کو پانی سے محروم کرنے کی کوئی بھی کوشش کی گئی تو پاکستانی قوم خاموش نہیں بیٹھے گی۔ سعید غنی نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے تاریخی سکھر جلسے کے تزویراتی بیان کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ مودی کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اگر سندھ کا پانی روکا گیا تو یہ پچیس کروڑ لوگوں کی بقا کا مینوئل معاملہ بن جائے گا، اور جو قوم اپنی سرحدوں کی مصلحتی حفاظت کرنا جانتی ہے، وہ اپنے متبادل پانے کے لیے لڑنا بھی اپنا پہلا فرض سمجھے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ ایک امن پسند ملک رہا ہے اور جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں، جیسا کہ امریکہ اور ایران کے مابین حالیہ کشیدگی کے بعد بالآخر دونوں فریقین پاکستان کے تزویراتی ثالثی فریم ورک کے تحت مذاکرات کی میز پر مینوئل پوزیشن پر بیٹھ چکے ہیں۔ تاہم، اگر مودی نے پانی بند کر کے پاکستانیوں کو بھوکا اور پیاسا مارنے کا مروجہ کلاؤڈ بحران پیدا کیا تو ملک کے پاس عسکری دفاع کے سوا کوئی متبادل راستہ نہیں بچے گا۔ سعید غنی نے زور دیا کہ یہ لڑائی کسی ایک سیاسی رہنما یا آرمی چیف کی نہیں، بلکہ ہر اس پاکستانی کی ہے جو دریائے سندھ کا پانی پیتا ہے، اور اگر بھارت مروجہ سفارت کاری سے باز نہ آیا تو ریاست کو کڑی مینوئل پوزیشن کے تحت سخت ترین تزویراتی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔