سمندری طوفان باوی تیزی سے چین کی طرف گامزن لاکھوں افراد محفوظ مقامات پر منتقل

ہولناک سمندری طوفان باوی کے مشرقی چین کے ساحلوں کی طرف تیزی سے بڑھنے کے بعد چینی حکام نے ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے ساحلی علاقوں سے چھ لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔ جاپان کے جنوبی جزائر اور تائیوان کے قریبی سمندروں سے گزرنے کے بعد یہ طوفان اب چین کے بڑے مشرقی شہر وینژو کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں اتوار کی صبح اس کے ٹکرانے کا شدید امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اگرچہ سمندر کے ٹھنڈے درجہ حرارت کے باعث طوفان کی ہواؤں کی رفتار میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن اس کے بادلوں میں بارش کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے جو فرانس جتنا بڑا علاقہ گھیرے ہوئے ہے۔

طوفان کے پیشِ نظر ژی جیانگ صوبے سے پانچ لاکھ سے زائد اور پڑوسی صوبے فوجیان سے ایک لاکھ سے زائد شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ دوسری جانب، فلپائن میں طوفان کے بالواسطہ اثرات اور شدید مون سون بارشوں کے باعث سترہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ تائیوان میں بھی چودہ ہزار سے زائد افراد کو پہاڑی علاقوں سے نکال لیا گیا ہے اور وہاں نو سو سے زائد بین الاقوامی اور سینکڑوں مقامی پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ چینی محکمۂ موسمیات نے طوفان کے راستے میں آنے والے اضلاع میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کے شدید خطرات کے باعث ریڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو گھروں کے اندر رہنے کی سخت ہدایت کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے