سینیئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کراچی کی جامعات، بالخصوص جامعہ کراچی (کراچی یونیورسٹی) میں اسلحہ کلچر اور تشدد کے آغاز کی تاریخی وجوہات پر روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے ماضی کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا کہ 1978 اور 1979 سے پہلے بھی کیمپسز میں اسلامی جمعیت طلبہ، پروگریسو فرنٹ اور پاکستان لبرلز جیسے طلبہ گروپ ایک دوسرے کے خلاف نظریاتی مہم چلاتے تھے اور سلور جوبلی جیسے پروگرامز پر تصادم بھی ہوتے تھے، لیکن تب کسی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ یونیورسٹی میں اسٹین گنیں چلیں گی یا باہر سے آنے والے لوگ فائرنگ کریں گے۔ انہوں نے جامعہ کراچی کے اس پہلے پرتشدد واقعے کو تاریخ کا ایک تاریک موڑ قرار دیا جس کی سرخیاں اگلے دن اخبارات کی زینت بنیں۔
مظہر عباس نے انکشاف کیا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دیے جانے سے قبل، ضیاء الحق کے مارشل لا دور میں بعض سرکاری و عسکری افسران نے اس وقت کے کرنٹ افیئرز کے انچارج ڈاکٹر قدیر سے رائے مانگی تھی کہ اگر سندھ کے کالجوں اور جامعات کو چند سال کے لیے بند کر دیا جائے تو کیسا رہے گا، کیونکہ اس وقت سندھ بھر میں مارشل لا کے خلاف شدید احتجاج ہو رہے تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ سیاست میں تشدد کو بنیاد بنا کر بعد میں یونینز پر پابندی کا جو بیانیہ تیار کیا گیا، وہ دراصل ایک گہری سوچ کا حصہ تھا۔ اس پالیسی کے نتیجے میں نہ صرف کیمپسز میں اسلحہ کی فراوانی ہوئی بلکہ اس کا سب سے خوفناک اثر پورے معاشرے پر پڑا، جہاں دلیل کے بجائے اسلحہ کی زبان استعمال ہونے لگی۔