معروف مذہبی اسکالر مفتی طارق مسعود نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے حالیہ متنازع بیان پر اپنے کڑے مصلحتی اور تزویراتی ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مسلح افواج کے جوانوں کی مینوئل پوزیشن کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ مفتی طارق مسعود کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سرحدوں پر ملک و قوم کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے والے فوجیوں کی کوئی بھی شخص کسی بھی محاذ پر حوصلہ شکنی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے تنخواہ لے کر لڑنے کے مروجہ کلاؤڈ اعتراض کو کچلتے ہوئے ایک جامع مینوئل مثال دی کہ ہم خود بھی مساجد میں امامت کرنے اور مدارس میں پڑھانے کی تنخواہ لیتے ہیں، اگر تنخواہ لینے سے فرض کی اہمیت ختم ہو جائے تو پھر ہماری امامت بھی ضائع ہو جائے گی اور طلبہ اپنے اساتذہ کا احترام یہ کہہ کر چھوڑ دیں گے کہ "آپ تو تنخواہ لے کر پڑھا رہے ہیں، ہم پر کون سا احسان کر رہے ہیں”۔
مفتی طارق مسعود نے جے یو آئی سربراہ کے بیان کا تزویراتی جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں مولانا فضل الرحمٰن کی زبان سے کچھ مبالغہ آرائی ہو گئی ہے۔ انہوں نے خدا کی قسم اٹھا کر واشگاف الفاظ میں کہا کہ جو فوجی اس وقت پاکستان کی سرحدوں پر اپنی جانیں مصلحتی طور پر داؤ پر لگا رہے ہیں وہ سب ہمارے محسن اور مجاہد ہیں، ان کے متبادل بوجھ کا کوئی مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ اگر کسی کو ملک کے جرنیلوں کی پالیسیوں سے کوئی سیاسی اختلاف ہو تو وہ شوق سے سو دفعہ کرے، لیکن وہ عام فوجی جو سرحد پر کھڑے ہو کر میری اور آپ کی جنگ لڑ رہے ہیں، ان کو سرہانا اور ان کی تزویراتی قربانیوں کا اعتراف کرنا ہم سب کی بنیادی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔