سندھ ہائیکورٹ نے سابق صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور ان کے اہلِ خانہ کے بینک اکاؤنٹس بلاک کرنے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے دوران وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ذیلی ونگ ‘این سی سی آئی اے’ کے ڈائریکٹر جنرل کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔ جسٹس عدنان الکریم نے تفتیشی افسر کی غیر تسلی بخش کارکردگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ تفتیشی افسر کو خود کچھ معلوم نہیں ہے، اب ڈی جی خود پیش ہو کر عدالت کو بتائیں کہ اس انکوائری میں آخر کتنا وقت لگے گا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ پانچ منٹ کا کام ہے جس پر بلاوجہ شہری کو ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر علی طاہر نے مؤقف اختیار کیا کہ سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی پر توہینِ مذہب کے الزام کے بعد ان کے پورے خاندان کے بینک اکاؤنٹس قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلاک کر دیے گئے ہیں اور ڈی جی این سی سی آئی اے ایک بار بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ دوسری جانب، ایڈیشنل اٹارنی جنرل مہرین ابراہیم نے عدالت سے انکوائری مکمل کرنے کے لیے مہلت کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ درخواست گزاروں کو پہلے بھی ریلیف مل چکا ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ٹک ٹاک اور یوٹیوب جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر انبیاء کرام کے خلاف انتہائی توہین آمیز مواد استعمال کیا گیا ہے، جس کی سنگین تحقیقات جاری ہیں۔ سندھ ہائیکورٹ نے وفاقی و تفتیشی حکام کو کڑی ہدایات جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 28 جولائی تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔