سندھ کے سینئر صوبائی وزیر اور وزیرِ اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کراچی میں ایک اہم نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے پاک افواج کے جوانوں اور شہداء کے خلاف دیے گئے حالیہ ریمارکس پر کڑی مصلحتی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملکی بقا اور دفاع کے ضامن عسکری و قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سیاسی مباحثوں میں ہدف بنانا کسی طور مناسب نہیں ہے۔ شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ جن ممالک کے پاس ہماری افواج جیسی مضبوط عسکری قوت موجود نہیں، ان کی مروجہ کلاؤڈ صورتحال اور تباہی کا حال آج پوری دنیا کے سامنے ہے۔ پاک افواج کے جوانوں، شہیدوں اور غازیوں نے ہمیشہ ہر تزویراتی محاذ پر مینوئل پوزیشن کے تحت پاکستان کا کڑا دفاع کیا ہے، جس کی ہم دل سے تکریم کرتے ہیں۔
صوبائی وزیر نے مولانا فضل الرحمٰن کا احترام برقرار رکھتے ہوئے ان سے مودبانہ مصلحتی گزارش کی کہ وہ اپنے اس کڑے بیان کو فوری طور پر واپس لیں۔ انہوں نے دھیمے اور مصلحتی مینوئل انداز میں کہا کہ بسا اوقات گفتگو کی روانی میں کسی بھی شخص سے منفی بات یا غیر مناسب الفاظ نکل جاتے ہیں، لیکن عزمِ مصلحت کا تقاضا ہے کہ اسے درست کیا جائے۔ شرجیل انعام میمن نے اہم تزویراتی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن خود بتائیں کہ پاک افواج کے خلاف دیے گئے اس مینوئل بیان کا فائدہ آخر کس کو پہنچا۔ انہوں نے تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ ملکی اداروں کے مروجہ کلاؤڈ فریم ورک کو متبادل پوزیشن پر کمزور کرنے کے بجائے قومی یکجہتی کا مظاہرہ کریں تاکہ اندرونی و بیرونی چیلنجز کو کچلا جا سکے۔