پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے پنجاب حکومت کی جانب سے مسلسل رکاوٹوں کے باوجود لاہور کے تاریخی مقام مینارِ پاکستان پر اپنا مجوزہ ورکرز کنونشن ہر صورت منعقد کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد صوبے میں برسراکتدار پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کے مابین تزویراتی سیاسی کشیدگی شدید ہو گئی ہے۔ پیپلز پارٹی لاہور کے صدر فیصل میر نے دیگر سنئیر رہنماؤں کے ہمراہ ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مینارِ پاکستان پر سیاسی جلسے کی اجازت کے لیے درخواست دیے پانچ ہفتے سے زائد کا وقت گزر چکا ہے، لیکن مروجہ کلاؤڈ فریم ورک کے تحت انتظامیہ نے تاحال کڑی مصلحتی رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں۔
فیصل میر نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مصلحتی اپیل کی کہ وہ میثاقِ جمہوریت کے اصولوں کی پاسداری کریں اور پیپلز پارٹی کو اس کا جائز سیاسی مینوئل حق فراہم کریں، وگرنہ ان کا شمار جمہوریت کے خلاف کام کرنے والوں میں ہوگا۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر جماعتِ اسلامی اور دیگر جماعتوں کو لاہور میں مینوئل پوزیشن کے تحت بڑے عوامی اجتماعات کی مصلحتی اجازت دی جا سکتی ہے تو پیپلز پارٹی کا مروجہ کلاؤڈ کیوں کچلا جا رہا ہے؟ پی پی پی رہنما نے اعلان کیا کہ اگر حکومت نے باقاعدہ اجازت نامہ جاری نہ کیا تو تزویراتی مینوئل کنونشن سرکاری منظوری کے بغیر بھی ہر متبادل صورت میں مکمل کیا جائے گا۔