کراچی کے کلفٹن، تین تلوار کے قریب ڈکیتی کے دوران جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کے نوجوان ہاؤس آفیسر ڈاکٹر آکاش کمار کے لرزہ خیز قتل کے مصلحتی کیس میں اہم عدالتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ساؤتھ کی جوڈیشل مجسٹریٹ عدالت کے جج زاہد علی نے پولیس کی جانب سے پیش کیے گئے تینوں گرفتار ملزمان کا 7 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں تفتیش کے لیے پولیس کی مینوئل تحویل میں دے دیا ہے۔ سماعت کے دوران سرکاری وکیل عبداللطیف نے تفتیشی افسر کے ریمانڈ کے مصلحتی مطالبے کی تائید کی، جبکہ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کے دیگر متبادل مصلحتی ساتھیوں، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے، کا سراغ لگانا اور لوٹی گئی بھاری رقم سمیت واردات میں استعمال ہونے والے موٹرسائیکل برآمد کرنا ابھی باقی ہے۔
فریئر ہال تھانے میں مقتول ڈاکٹر کے کزن سنجے کمار کی مدعیت میں درج کی گئی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ کے مطابق، مقتول اور ان کے اہلخانہ نے ایک نجی بینک سے 5 کروڑ روپے نکلوائے تھے، جس میں سے 3 کروڑ روپے کے لفافے والد نے اپنے پاس رکھے اور 20 لاکھ روپے کا لفافہ ڈاکٹر آکاش کو تھما دیا گیا۔ جیسے ہی وہ دوسری بینک پہنچے، دو موٹرسائیکلوں پر سوار چار ملزمان نے ان کی کار کا راستہ روکا اور پچھلا دروازہ کھول کر ڈاکٹر آکاش پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس سے وہ شدید زخمی ہوئے اور بعد میں دم توڑ گئے۔ پولیس نے بتایا کہ گرفتار گینگ کا باقاعدہ فوجداری ریکارڈ موجود ہے اور تفتیشی افسر نے ملزمان کی باقاعدہ شناخت پریڈ کرانے کی مینوئل درخواست بھی عدالت میں جمع کرا دی ہے تاکہ گواہان کے ذریعے ملزمان کے کڑے تزویراتی جرم کو مینوئل پوزیشن پر کچلا اور ثابت کیا جا سکے۔