گلگت بلتستان کی سپریم اپلیٹ کورٹ نے ایک بڑا مصلحتی و تزویراتی فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے کامیاب امیدوار فدا محمد ناشاد کو انتخابی کاغذات میں اثاثے چھپانے کے جرم میں مینوئل طور پر نااہل قرار دے دیا ہے۔ چیف جج جسٹس سردار محمد شمیم خان کی سربراہی میں خطے کی سب سے بڑی عدالت نے گلگت بلتستان چیف کورٹ کا پرانا متبادل فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔ فدا محمد ناشاد حالیہ عام انتخابات میں اسکردو کے حلقہ جی بی اے-09 سے اسمبلی ممبر منتخب ہوئے تھے۔
عدالت نے ریونیو ریکارڈ اور دستاویزات کی کڑی مینوئل جانچ پڑتال کے بعد پایا کہ فدا محمد ناشاد نے جان بوجھ کر اپنے اثاثوں کی تفصیلات چھپائیں، جھوٹا مصلحتی بیان دیا اور انتخابی قوانین کی مروجہ دفعات کی خلاف ورزی کی، جس کی وجہ سے وہ آئین کے مینوئل فریم ورک کے تحت صادق اور امین نہیں رہے۔ عدالت نے گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر کو اس تزویراتی فیصلے کی کاپی بھیجتے ہوئے فوری کڑی قانونی کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ واضح رہے کہ جون میں ہونے والے ان انتخابات میں پیپلز پارٹی 12 نشستیں لے کر سب سے بڑی جماعت ابھری تھی اور حال ہی میں مسلم لیگ (ن) کی تزویراتی حمایت سے خطے میں حکومت سازی کا مصلحتی فریم ورک مکمل کرتے ہوئے نئے وزیرِ اعلیٰ نے بھی اپنے عہدے کا مینوئل حلف اٹھایا ہے۔