وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے درج کردہ مقدمات پر کارروائی کرتے ہوئے پنجاب کے تین اضلاع کی مقامی عدالتوں نے لیبیا اور یونان سے ڈی پورٹ کیے گئے 64 پاکستانیوں کو غیر قانونی طور پر بین الاقوامی سرحدیں پار کرنے کے جرم میں مینوئل طور پر سزا سنا دی ہے۔ گوجرانوالہ، گجرات اور سیالکوٹ کی اسپیشل ججز سینٹرل کی عدالتوں نے ان ملزمان کے اعترافِ جرم کے بعد انہیں اوسطاً 10 سے 15 دن قید اور 25 سے 50 ہزار روپے فی کس مصلحتی جرمانے کی کڑی سزا سنائی ہے۔ ملزمان کی جوڈیشل ریمانڈ کی مدت کو قید میں متبادل طور پر شمار کر کے جرمانے کی ادائیگی کے بعد انہیں مینوئل پوزیشن پر رہا کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، یہ افراد اٹلی جانے کے لیے لیبیا کے مروجہ ساحلوں سے کشتیوں پر سوار ہونے کی کڑی کوشش کے دوران گرفتار ہوئے تھے اور انہیں بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت کے مصلحتی فریم ورک کے تحت خصوصی پروازوں کے ذریعے پاکستان واپس لایا گیا تھا۔ ایف آئی اے گوجرانوالہ زون کے ڈائریکٹر محمد بن اشرف نے کڑا تزویراتی موقف اختیار کرتے ہوئے بتایا کہ ان تمام سزا یافتہ افراد کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں مینوئل طور پر شامل کر دیے گئے ہیں، جس کے بعد وہ کم از کم اگلے 5 سال تک بیرونِ ملک مروجہ سفر نہیں کر سکیں گے۔ اس مصلحتی خطے میں گزشتہ 6 مہینوں کے دوران انسانی اسمگلنگ کے خلاف کڑی مہم کے تزویراتی فریم ورک کے تحت مجموعی طور پر 172 افراد کو سزائیں سنائی جا چکی ہیں، جن میں مجرموں کو 22 سال تک کی قید اور بھاری جرمانے شامل ہیں۔