وزیر داخلہ سندھ ضیاء اللہ لنجار نے منشیات فروش ملزمہ انمول عرف پنکی کی عدالت میں بغیر ہتھکڑی پیشی اور ریمانڈ نہ ملنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ سطح کی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (JIT) بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے پولیس کی ناقص کارکردگی اور عدالتی فیصلے پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاء اللہ لنجار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایڈیشنل آئی جی اس جے آئی ٹی کی سربراہی کریں گے، جس میں انٹیلی جنس افسران اور بیوروکریٹس بھی شامل ہوں گے۔ جے آئی ٹی اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لے گی کہ پولیس نے عدالت میں جو ریمانڈ پیپرز پیش کیے وہ کتنے مضبوط تھے اور اس میں کیا خامیاں رہ گئیں۔
انہوں نے ملزمہ کو "چلتی پھرتی کوکین فیکٹری” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کی جانب سے پیش کیے گئے ریمانڈ کے طریقہ کار پر انہیں بطور وزیر داخلہ بہت دکھ اور افسوس ہوا ہے۔ ضیاء اللہ لنجار نے طنزیہ طور پر کہا، "میں تو پنکی کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ عدالت سے بھاگی نہیں، ورنہ جس طرح کے حالات تھے کچھ بھی ہو سکتا تھا۔”
وزیر داخلہ نے خاتون مجسٹریٹ کی جانب سے ملزمہ کا ریمانڈ نہ دینے کے فیصلے کو بھی افسوسناک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزمہ سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد ہوئی لیکن 24 گھنٹے کا ریمانڈ بھی نہیں دیا گیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت اس فیصلے کے خلاف قانونی درخواست دائر کرے گی اور ملزمہ کا تمام مقدمات میں دوبارہ ریمانڈ لیا جائے گا۔
اس واقعے نے کراچی میں پولیس تفتیش، عدالتی کارروائی اور سیکیورٹی پروٹوکول کے نظام پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اگر نظام اسی طرح چلا تو جرائم پیشہ عناصر کی حوصلہ افزائی ہوگی، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔


