وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کے خلاف پارلیمنٹ کے احاطے میں ہونے والے احتجاج کی تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں، جس میں یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا ہے کہ احتجاج کرنے والا شہری کسی اور کے ذریعے نہیں بلکہ ن لیگ کے اپنے ہی سینیٹر ناصر بٹ کی سرکاری گاڑی میں بیٹھ کر پارلیمنٹ پہنچا تھا۔
تفصیلی حقائق: اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ہدایت پر کی گئی انکوائری رپورٹ کے مطابق، سی سی ٹی وی فوٹیج سے ثابت ہوا ہے کہ متعلقہ شہری دن 11 بج کر 23 منٹ پر سینیٹر ناصر بٹ کی گاڑی میں پارلیمنٹ ہاؤس کے گیٹ نمبر 1 پر پہنچا۔ سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں نے سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑی دیکھ کر اسے روکا نہیں بلکہ ‘سیلیوٹ’ کر کے اندر جانے کا راستہ دیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گاڑی پارلیمنٹ کے گیٹ ون کے سامنے رکی، جہاں سے شہری اترا اور وفاقی وزیر کے خلاف ٹک ٹاک ویڈیو بنائی۔ احتجاج ریکارڈ کروانے کے بعد وہ شخص 11 بج کر 30 منٹ پر دوبارہ اسی گاڑی میں بیٹھ کر باآسانی روانہ ہو گیا۔ اس واقعے نے پارلیمنٹ کی سیکیورٹی اور خود حکومتی اراکین کے درمیان ہم آہنگی پر بڑے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
رابطہ کرنے پر سینیٹر ناصر بٹ نے اپنے مہمان کو لانے کی تصدیق کی تاہم ویڈیو بنانے کے عمل سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "میرے مہمان میری گاڑی میں مجھ سے ملنے آتے رہتے ہیں، میں کسی وزیر سے پوچھ کر مہمان بلانے کا پابند نہیں ہوں، البتہ میں نے کسی کو ویڈیو بنانے کا نہیں کہا۔” انہوں نے مزید مشورہ دیا کہ اگر حنیف عباسی کا کسی کے ساتھ کوئی معاملہ ہے تو وہ اسے خود حل کریں۔
وفاقی وزیر حنیف عباسی نے اس واقعے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ ایک عام شہری اتنی حساس جگہ پر کیسے پہنچ گیا۔ اب انکوائری رپورٹ سامنے آنے کے بعد اسپیکر آفس اس بات پر غور کر رہا ہے کہ سرکاری گاڑیوں کے ذریعے مہمانوں کے داخلے کے طریقہ کار کو کس طرح مزید سخت بنایا جائے۔


