ڈان نیوز کی ایک خصوصی اور دلچسپ رپورٹ کے مطابق، کراچی کی سڑکوں، چوراہوں اور فٹ پاتھوں پر پرندوں، خصوصاً چیلوں (Kites) کو گوشت کھلانے کا بڑھتا ہوا رجحان اب ایک باقاعدہ منظم ‘قبضہ مافیا’ اور منافع بخش کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ شہر کے مختلف اہم مقامات، جیسے کہ شارع فیصل، کلفٹن، ڈیفنس اور پلوں کے نیچے، مافیا کے کارندے شہریوں کو ‘صدقے کا گوشت’ فروخت کرتے ہیں، جسے لوگ اپنی بلاؤں کو ٹالنے اور منتوں کے لیے فضا میں اچھالتے ہیں۔ یہ عمل بظاہر پرندوں پر رحم یا مذہبی عقیدت نظر آتا ہے، لیکن پسِ پردہ اس نے شہر کے ایکو سسٹم اور پرندوں کے قدرتی توازن کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
طبی اور ماحولیاتی ماہرین نے اس رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس مصنوعی اور غیر معیاری خوراک کی کثرت کی وجہ سے کراچی کے آسمان پر چیلوں کی آبادی میں غیر معمولی اور خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ چیلوں کی اس یلغار نے شہر کے دیگر معصوم اور مقامی پرندوں، جیسے کہ چڑیوں، کبوتروں اور طوطوں کی بقا کو خطرے میں ڈال دیا ہے، کیونکہ چیلیں ان کے گھونسلوں اور بچوں پر حملہ کر کے انہیں ہلاک کر دیتی ہیں، جس سے شہر کا حیاتیاتی توازن بگڑ رہا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ چیلوں کو دانستہ طور پر چوراہوں اور مصروف سڑکوں کے قریب گوشت ڈالنے سے ہوا بازی (Aviation) کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا ہو رہے ہیں۔ ایئرپورٹ کے قریبی علاقوں میں پرندوں کے طیاروں سے ٹکرانے (Bird Strikes) کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے، جو کسی بھی بڑے فضائی حادثے کا سبب بن سکتے ہیں۔ شہریوں اور سماجی حلقوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فٹ پاتھوں پر گوشت بیچنے والے اس مافیا کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور پرندوں کو ان کے قدرتی ماحول میں رہنے دیا جائے۔


