کراچی میں اسٹریٹ کرائم اور اندھی گولیوں کا خونی تانڈو؛ محض 3 گھنٹوں میں فائرنگ کے 11 واقعات، بچوں اور خواتین سمیت 3 افراد جاں بحق اور 15 زخمی

شہرِ قائد میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک حد تک خراب ہو گئی ہے۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں محض تین گھنٹوں کے قلیل دورانیے میں فائرنگ اور اندھی گولیاں لگنے کے 11 خوفناک واقعات پیش آئے ہیں، جن کے نتیجے میں معصوم بچوں اور خواتین سمیت 3 افراد جاں بحق اور 15 دیگر شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

جاں بحق افراد کی تفصیلات:

میڈیا رپورٹس کے مطابق، فائرنگ کے ان الگ الگ واقعات میں تین شہریوں کی جانیں چلی گئیں۔ بنارس علیگڑھ چپل مارکیٹ کے قریب اندھی گولی لگنے سے 35 سالہ شکیل موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا، جبکہ اورنگی ٹاؤن قصبہ موڑ پر مسلح افراد کی فائرنگ سے 32 سالہ یاسین دم توڑ گیا۔ اس کے علاوہ صفورہ سمیرا چوک کے قریب فائرنگ کے ایک اور واقعے میں 45 سالہ شاہد اپنی جان کی بازی ہار گیا۔

معصوم بچے اور خواتین بھی نشانہ بنیں:

تین گھنٹوں کی اس خونی لہر میں اندھی گولیوں اور ڈکیتی مزاحمت کے دوران 15 افراد زخمی ہوئے، جن میں کم عمر بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ زخمی ہونے والے بچوں میں 5 سالہ عرفان، 10 سالہ شوشانت، 13 سالہ عبدالباسط اور 17 سالہ عافیہ شامل ہیں جنہیں شدید چوٹیں آئی ہیں۔ فائرنگ کے یہ دلازار واقعات اورنگی ٹاؤن، نارتھ کراچی، سہراب گوٹھ، کورنگی، کلفٹن، سائٹ ایریا اور سرجانی ٹاؤن سمیت شہر کے مختلف مضافاتی اور مرکزی علاقوں میں پیش آئے۔

اسپتالوں میں ایمرجنسی اور پولیس کارروائی:

تمام جاں بحق افراد کی لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر شہر کے مختلف سرکاری اسپتالوں (عباسی شہید، جے پی ایم سی اور سول اسپتال) منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو ہنگامی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہر کے مختلف تھانوں میں ان واقعات کے مقدمات درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، اور اسٹریٹ کرمنلز و فائرنگ میں ملوث عناصر کی گرفتاری کے لیے ناکہ بندی کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے