پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کے سینیئر رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے وفاقی بجٹ میں سولر انرجی کے حوالے سے حکومتی پالیسیوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
قومی اسمبلی کے بجٹ سیشن کے دوران اپنے روایتی طنزیہ اور مزاحیہ انداز میں بات کرتے ہوئے قادر پٹیل کا کہنا تھا کہ حکومت نے یہ دعویٰ تو کیا ہے کہ مضافاتی اور شہری علاقوں کے لیے سولر پینلز پر سے ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے، لیکن دوسری جانب سولر سسٹم کے سب سے اہم حصے یعنی ‘انورٹر’ پر ٹیکس برقرار رکھا گیا ہے۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ‘یہ کیسا کام ہے؟’ کہ ایک طرف آپ پینل سستا کر رہے ہیں اور دوسری طرف انورٹر پر بھاری ٹیکس لگا رہے ہیں۔
قادر پٹیل کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر شہریوں کی جانب سے بھرپور پزیرائی مل رہی ہے، کیونکہ ملک میں جاری بجلی کے بحران اور مہنگی بجلی کے باعث عوام کی بڑی تعداد سولر پاور کا رخ کر رہی ہے۔ تاجر برادری اور صارفین کا بھی یہی مؤقف ہے کہ انورٹر کے بغیر سولر پینل کا چلنا ممکن نہیں ہے، اس لیے انورٹر پر ٹیکس برقرار رکھنا عوام کو متبادل توانائی کی سہولت سے محروم رکھنے کے مترادف ہے۔ اپوزیشن اور حلیف جماعتوں کی جانب سے بجٹ میں ان تضادات کو ختم کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔