کراچی کے متمول علاقے ڈیفنس (DHA) میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے شہری کو مبینہ طور پر اغوا کرنے اور تاوان وصول کر کے رہا کرنے کا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ متاثرہ شہری کی منگیتر نے ڈیفنس تھانے کے اہلکاروں کے خلاف کراچی پولیس چیف کو باقاعدہ تحریری شکایت جمع کروا دی ہے۔
گھر سے اغوا اور کوکین کا جھوٹا الزام:
ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، متاثرہ خاتون نے اپنی شکایت میں دعویٰ کیا ہے کہ ڈیفنس تھانے کے اہلکاروں نے پہلے ان کے منگیتر کو زبردستی گھر سے اٹھایا اور تھانے منتقل کیا۔
پولیس اہلکاروں نے جوڑے پر دباؤ بڑھانے کے لیے ان پر انتہائی مہنگی منشیات ‘کوکین’ فروخت کرنے کا جھوٹا اور من گھڑت الزام عائد کیا تاکہ وہ گھبرا کر رقم دینے پر راضی ہو جائیں۔
گیسٹ ہاؤس میں حبسِ بیجا اور ہراسانی کا انکشاف:
خاتون نے سنگین انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ان دونوں کو پہلے ڈیفنس تھانے میں رکھا گیا اور بعد ازاں کسی نامعلوم گیسٹ ہاؤس منتقل کر دیا گیا۔ وہاں موجود پولیس اہلکار خاتون کو مسلسل ذہنی اور جسمانی طور پر ہراساں کرتا رہا۔
5 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ اور رہائی:
ملوث پولیس اہلکاروں کی جانب سے جوڑے کی باقاعدہ رہائی کے بدلے 5 لاکھ روپے تاوان (رشوت) طلب کیا گیا۔ سودے بازی کے بعد معاملہ ایک لاکھ روپے پر طے پایا۔
متاثرہ خاتون کے مطابق، پولیس اہلکاروں نے ان کے منگیتر کو رقم کا بندوبست کرنے کے لیے گھر بھیجا جبکہ خاتون کو بطورِ یرغمال تھانے میں ہی بٹھائے رکھا۔ جب پولیس اہلکاروں کو ایک لاکھ روپے کی نقد رقم ادا کر دی گئی، تو اس کے بعد ہی خاتون کو گھر جانے کی اجازت دی گئی۔ خاتون نے پولیس چیف سے ملوث کالی بھیڑوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی اور رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔


