کراچی میں ہل پارک کے متصل زمین پر غیر قانونی تعمیرات کے معاملے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں قبضے کے لیے محکمہ لینڈ کی جعلی این او سی (NOC) کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔ دستاویزات کے مطابق، قبضہ مافیا نے 21 اپریل کو محکمہ لینڈ کی ایک جعلی این او سی دکھا کر ہل پارک انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تھی، جس کی تصدیق بعد ازاں جعلی ہونے کے طور پر ہوئی۔ اس معاملے پر کے ایم سی (KMC) کی جانب سے ڈی جی پارکس کو خط لکھ کر آگاہ کیا گیا، جس کے بعد قبضہ مافیا نے محکمہ لینڈ سے رجوع کیا اور 30 اپریل کو ایک مشروط این او سی حاصل کی، جس میں واضح ہدایات تھیں کہ سرکاری اراضی اور پارک کی حدود میں کسی بھی قسم کی تعمیرات نہ کی جائیں۔
مزید برآں، محکمہ لینڈ کی جانب سے 18 مئی کو پی ای سی ایچ ایس (PECHS) سوسائٹی کو ایک خط لکھا گیا جس میں پلاٹ نمبر 39 جی فور، بلاک 6 کی ملکیت کی تفصیلات طلب کی گئی تھیں، تاہم کے ایم سی حکام کے مطابق اس حوالے سے انہیں اب تک کوئی جوابی خط موصول نہیں ہوا ہے۔ یاد رہے کہ عید سے قبل میئر کراچی نے ہل پارک سے متصل زمین پر جاری تعمیراتی کام کو رکوا دیا تھا، اور اب حکام کا کہنا ہے کہ مکمل انکوائری کے بعد ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔


