ڈان نیوز کے مطابق، انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (IRSA) نے صوبہ سندھ کے شدید ترین تحفظات اور اعتراضات کے باوجود خریف کی فصلوں کے لیے صوبوں کے درمیان پانی کی کمی کو یکساں طور پر تقسیم (Equalising Water Shortage) کرنے کے اپنے متنازع فیصلے پر برقرار رہنے کا اعلان کیا ہے۔ سندھ حکومت نے ارسا کے اس طریقہ کار پر سخت احتجاج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ یہ اقدام 1991 کے تاریخی صوبائی مانیٹرنگ اور واٹر شیئرنگ معاہدے (Water Apportionment Accord) کی صریح خلاف ورزی ہے۔
ارسا کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں، جس میں تمام صوبوں کے نمائندے شریک تھے، پانی کی منصفانہ تقسیم کے فارمولے پر تفصیلی بحث کی گئی۔ پنجاب اور دیگر مقتدر حلقوں کی جانب سے اس موقف کی تائید کی گئی کہ موجودہ سیزن میں پانی کی مجموعی قلت کو دیکھتے ہوئے تمام اسٹیک ہولڈرز پر بوجھ برابر ڈالنا ناگزیر ہے۔ دوسری جانب، سندھ کے ارکان نے دلیل دی کہ خریف کے آغاز میں سندھ کو پانی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور یکساں قلت کا فارمولا نافذ کرنے سے صوبے کی زراعت، بالخصوص چاول اور کپاس کی فصلوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا، جس سے صوبے میں معاشی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔
باوجود اس کے کہ سندھ نے ارسا کے اس فیصلے کو یکطرفہ اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مشترکہ مفادات کونسل (CCI) یا وفاق کی سطح پر اٹھانے کی دھمکی دی ہے، اتھارٹی کے اکثریتی ارکان نے موجودہ فیصلے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا ترمیم کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ ارسا حکام کا کہنا ہے کہ دریاؤں میں پانی کی آمد مانیٹر کی جا رہی ہے اور جیسے ہی پوزیشن بہتر ہوگی، صوبوں کے کوٹے پر نظرثانی کی جائے گی، تاہم موجودہ پوزیشن کے تحت پانی کی کمی کا بوجھ سب کو برابر ہی اٹھانا پڑے گا۔


