قانون اور تعطل کی وجہ: سندھ اسمبلی نے جولائی 2022 میں ایک قانون پاس کیا تھا جس کے تحت خواجہ سراؤں کے لیے گریڈ 15 تک سرکاری ملازمتوں میں 0.5 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا تھا۔ تاہم، 4 سال گزرنے کے باوجود اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ سب سے بڑی رکاوٹ قانون میں جنس کی تصدیق کے لیے "اسٹینڈنگ میڈیکل بورڈ” کے ذریعے جسمانی معائنے (Physical Examination) کی لازمی شرط ہے۔
خواجہ سرا برادری کا مؤقف: خواجہ سرا برادری اور حقوق کے کارکن (جیسے جینڈر انٹرایکٹیو الائنس کی زحرش خانزادی) اس شرط کو امتیازی اور توہین آمیز قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب نادرا شناختی کارڈ پر ان کی جنس واضح درج ہے تو میڈیکل بورڈ سے تصدیقی سرٹیفکیٹ مانگنا ناانصافی ہے، کیونکہ عام مرد یا عورت سے ملازمت کے وقت ایسا کوئی سرٹیفکیٹ نہیں مانگا جاتا۔
حکومتِ سندھ کا مؤقف: حکومتِ سندھ کے ترجمان سکھ دیو ہیمنانی کے مطابق، جسمانی معائنے کا مقصد ملازمت کے عمل میں شفافیت لانا ہے تاکہ حقدار لوگوں کو نوکری مل سکے۔ حال ہی میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے پہلی بار نوکریوں کے اشتہار میں یہ کوٹہ شامل کیا ہے، لیکن اپلائی کرنے کے لیے میڈیکل سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا گیا ہے۔
کوٹہ کی شرح پر تحفظات: خواجہ سرا برادری کا ماننا ہے کہ 0.5% کوٹہ بہت کم ہے (100 اسامیوں پر ایک نوکری بھی پوری نہیں بنتی)۔ ان کا مطالبہ ہے کہ پنجاب کی طرح سندھ میں بھی یہ کوٹہ کم از کم 1 سے 2 فیصد کیا جائے۔ انسانی حقوق کمیشن (HRCP) کے وائس چیئرمین قاضی خضر نے بھی اس مطالبے اور جسمانی معائنے کی شرط ختم کرنے کی حمایت کی ہے۔
آبادی کے متضاد اعداد و شمار: 2023 کی ڈیجیٹل مردم شماری کے مطابق سندھ میں 4,222 خواجہ سرا ہیں، جبکہ غیر سرکاری طور پر یہ تعداد تقریباً 55,000 (اور صرف کراچی میں 18,000 سے زائد) بتائی جاتی ہے


