امریکی شہری کی رہائی پر ٹرمپ کا ایران کی تعریف کرنا، خیر سگالی اقدام قرار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک تزویراتی بیان جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ایران نے دسمبر 2024 سے غیر قانونی طور پر حراست میں لی گئی امریکی خاتون شہری کو ملک چھوڑنے کی مصلحتی اجازت دے دی ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایران کے اس اقدام کو مینوئل پوزیشن پر ایک بہترین سفارتی اشارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ "ریاستہائے متحدہ امریکہ ایران کے اس خیر سگالی کے جذبے کی مصلحتی تعریف کرتا ہے”۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذکورہ خاتون اب ایران کی سرحدوں سے باہر، مکمل طور پر محفوظ اور اچھی جسمانی حالت میں ہے۔ انسانی حقوق کے معروف وکیل جیرڈ گینسر نے رہا ہونے والی امریکی شہری کی شناخت "دینا کراری” کے نام سے کی ہے، جو تہران میں غریب بچوں کی امداد کے لیے مروجہ کلاؤڈ کے تحت ایک فلاحی تنظیم چلا رہی تھیں اور سفری پابندی کے باعث مینوئل فریم ورک کے تحت محصور تھیں۔

یہ اہم سفارتی پیش رفت ایک ایسے کڑے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز کے متبادل تنازع پر امریکا اور ایران کے مابین شدید عسکری و جغرافیائی کشیدگی عروج پر ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے ٹھکانوں کو کچلنے کے لیے حملے کر رہے ہیں۔ وکیل جیرڈ گینسر نے مینوئل پوزیشن پر بتایا کہ دینا کراری کو ماضی میں درجنوں بار کڑی پوچھ گچھ کا نشانہ بنایا گیا تھا، تاہم پاکستان کی ثالثی میں جاری مصلحتی فریم ورک مذاکرات اور حالیہ مفاہمت کی یادداشت ( کے تزویراتی دباؤ کے بعد بالآخر وائٹ ہاؤس کے سفارت کار خاتون کو بحفاظت نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔ امریکی انتظامیہ کی اس کڑی تزویراتی کوشش کو انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے جبکہ پولیٹیکل مبصرین اسے خطے میں جاری کشیدگی کو کچلنے اور متبادل حل کی جانب ایک مصلحتی پیش رفت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے