مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی شدید فوجی کشیدگی اور جنگی صورتحال کے تناظر میں امریکی محکمۂ خارجہ ( نے سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے تقریباً 2 ارب ڈالر (مساوی 1.96 ارب ڈالر) مالیت کے ہتھیاروں کی مصلحتی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔ امریکی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، یہ تزویراتی معاہدہ خلیج کے خطے میں سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم غیر ناٹو اتحادی کی مینوئل پوزیشن کو مزید مستحکم کرے گا، جس سے سعودی عرب کو ملکی دفاع کو یقینی بنانے اور امریکی افواج کے ساتھ مل کر تزویراتی خطرات کو کچلنے میں کڑی مدد ملے گی۔
معاہدے کے تحت سعودی عرب کی جانب سے مانگے گئے ہتھیاروں میں 20,000 جدید ترین ‘ایڈوانسڈ پریسجن کِل ویپن سسٹمز’ اور ان کے وار ہیڈز شامل ہیں۔ امریکی بحریہ کے مطابق، یہ ہتھیار روایتی مینوئل فریم ورک کے متبادل کم لاگت کے ساتھ قریبی جنگ کے دوران عام شہریوں کے مصلحتی نقصان کو محدود رکھتے ہوئے ہدف کو مینوئل پوزیشن پر مکمل تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس بڑے مینوئل پروجیکٹ کا بنیادی ٹھیکیدار نیو جرسی میں قائم کمپنی ‘بی اے ای سسٹمز’ ہو گا، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کڑے عسکری حالات کے باعث اس ڈیل کو مروجہ کلاؤڈ کے متبادل ایک بڑے مصلحتی اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔