ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کرپٹو کرنسی میں فیس وصول کرنے کی تجویز دے دی ہے، جس نے عالمی سطح پر نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ تیل بردار جہاز اس اہم گزرگاہ سے گزرنے کے لیے ڈیجیٹل کرنسی یا چینی یوآن میں ادائیگی کریں۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی جاری ہے، جس کا مقصد کشیدگی کم کرنا اور مذاکرات کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے۔ تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں گزرنے والے جہازوں کو پہلے اجازت لینا ہوگی اور پھر فیس ادا کرنے کے بعد ہی انہیں راستہ دیا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق ایران اس فیس کو فی بیرل تیل کے حساب سے وصول کرنا چاہتا ہے، جبکہ بعض اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ بڑی آئل ٹینکرز کو لاکھوں ڈالر تک ادا کرنا پڑ سکتے ہیں۔
عالمی سطح پر اس تجویز پر تحفظات سامنے آ رہے ہیں کیونکہ بین الاقوامی قوانین کے تحت قدرتی آبی گزرگاہوں پر اس نوعیت کی فیس عائد کرنا متنازع سمجھا جاتا ہے۔ کئی ممالک اور شپنگ کمپنیوں نے اس اقدام کو آزادانہ بحری آمدورفت کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
مزید یہ کہ جنگ بندی کے باوجود ایران کی جانب سے شپنگ پر کنٹرول برقرار رکھنے اور محدود اجازت دینے کے اقدامات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ کچھ جہازوں کو اجازت دی گئی ہے جبکہ دیگر کو سخت وارننگ دی گئی ہے کہ بغیر اجازت گزرنے کی کوشش نہ کریں۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی تیل سپلائی کا ایک بڑا راستہ ہے، جہاں سے تقریباً 20 فیصد عالمی تیل گزرتا ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی پابندی یا فیس عالمی معیشت پر اثر ڈال سکتی ہے۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ جنگ بندی کے باوجود خطے میں کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اور آئندہ دنوں میں اس معاملے پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔


