میں لیبر وارڈ کے عملے کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی کا ایک انتہائی افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں گائنی وارڈ میں داخلے کے لیے گھنٹوں انتظار کروانے کے بعد ایک خاتون نے اسپتال کے باتھ روم میں بچے کو جنم دے دیا۔ واقعے کے بعد نوزائیدہ بچے کی حالت غیر ہونے پر ورثا نے اسپتال انتظامیہ اور ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز کے خلاف شدید احتجاج کیا۔
متاثرہ خاتون کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ وہ مریضہ کو شدید دردِ زہ کی حالت میں اسپتال لائے تھے، تاہم وہاں موجود پیرا میڈیکل اسٹاف اور ڈیوٹی ڈاکٹرز نے فوری طبی امداد فراہم کرنے یا وارڈ میں داخل کرنے کے بجائے انہیں کاغذی کارروائی اور انتظار گاہ میں بٹھائے رکھا۔ اس دوران جب مریضہ کی حالت زیادہ خراب ہوئی تو وہ باتھ روم گئیں جہاں عملے کی غیر موجودگی میں بچے کی پیدائش ہو گئی۔ ورثا نے الزام عائد کیا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں غریب مریضوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا ہے اور ڈاکٹرز کی غفلت کی وجہ سے ماں اور بچے دونوں کی زندگی شدید خطرے میں پڑ گئی تھی۔
اسپتال کے باتھ روم میں بچے کی پیدائش کی خبر پھیلتے ہی سیکیورٹی اور انتظامیہ کی دوڑیں لگ گئیں اور فوری طور پر جائیدادِ واقعہ سے ماں اور نوزائیدہ بچے کو اسٹرکچر پر منتقل کر کے طبی امداد دی گئی۔ دوسری جانب، جناح اسپتال کی انتظامیہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایک اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگر ڈیوٹی پر موجود گائنی وارڈ کے ڈاکٹرز یا عملے کی جانب سے فرائض میں غفلت ثابت ہوئی تو ان کے خلاف سخت محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی


