امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کردہ امن شرائط کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے انہیں "قطعی طور پر ناقابلِ قبول” قرار دیا ہے۔ اس اعلان کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ بندی کے خاتمے اور دوبارہ بڑے پیمانے پر حملوں کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے ایرانی نمائندوں کی جانب سے بھیجی گئی تجویز کا مطالعہ کیا ہے اور وہ اسے پسند نہیں کرتے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے مطالبات حد سے زیادہ ہیں اور امریکہ ان پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ واشنگٹن کی تجویز میں جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیوں جیسے نکات شامل تھے۔
دوسری جانب تہران نے صدر ٹرمپ کے اس بیان پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو اس کا جواب "حیران کن” ہوگا۔ ایرانی عسکری ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرام نیا نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو دشمن کو ایسے ہتھیاروں، طریقوں اور محاذوں کا سامنا کرنا پڑے گا جس کا اس نے سوچا بھی نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو ممالک ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کا ساتھ دیں گے، ان کے بحری جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنا ناممکن بنا دیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ 10 ہفتوں سے جاری یہ تنازع اب طویل تر ہو سکتا ہے، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی لائنز بری طرح متاثر ہوں گی۔
اس تمام صورتحال کے باوجود سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اب بھی دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر رکھنے کے لیے کوشاں ہے، تاہم صدر ٹرمپ کے سخت رویے اور ایران کی جوابی دھمکیوں نے امن کی امیدوں کو دھندلا دیا ہے۔


