امریکا اور ایران کی جانب سے ہفتے کے اختتام پر باہمی حملوں کو عارضی طور پر روکنے اور سفارتی حل کی امیدیں پیدا ہونے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 6 فیصد سے زائد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ برینٹ کروڈ کے سستے ہونے کے بعد قیمت 6.4 فیصد کمی کے ساتھ 90.58 ڈالر فی بیرل پر آ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 6.5 فیصد کمی کے بعد 83.51 ڈالر فی بیرل تک گر گئی۔
قیمتوں میں اس بڑی کمی کی بنیادی وجہ دونوں ممالک کے درمیان دو ہفتوں سے جاری حملوں کا وقفہ اور تنازع میں کمی کی امیدیں ہیں، جس سے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت میں بہتری کی امکانات روشن ہوئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے حملے روکنے کا فیصلہ کیا، جس کا عالمی تیل مارکیٹ نے مثبت اثر لیا ہے۔