اقوامِ متحدہ کے ذیلی اداروں نے ایک لرزہ خیز سانحے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ میانمار کے ساحل کے قریب پناہ گزینوں کی دو بڑی کشتیاں ڈوبنے کے نتیجے میں 500 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین اور انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ مصلحتی بیان کے مطابق، ابتدائی اطلاعات سے معلوم ہوا ہے کہ ان دونوں کشتیوں نے جون کے آخر میں جنگ زدہ میانمار کی ریاست رخائن سے سفر کا آغاز کیا تھا، جن پر سوار مسافروں کی اکثریت مظلوم روہنگیا پناہ گزینوں پر مشتمل تھی۔ ان مسافروں میں سے بعض پناہ گزین بنگلہ دیش کے کاکس بازار میں قائم پناہ گزین کیمپوں سے بھی رخائن پہنچے تھے۔
رپورٹ کے مطابق، پہلی کشتی تقریباً 250 پناہ گزینوں کو لے کر روانہ ہوئی تھی جس کا سفر کے آغاز کے فوراً بعد ہی رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ دوسری کشتی، جس پر مبینہ طور پر 280 مسافر سوار تھے، 8 جولائی کو میانمار کے ساحل اراوادی کے قریب سمندر کی بے رحم لہروں کی نذر ہو کر غرق ہو گئی۔ یو این حکام کا کہنا ہے کہ یہ خطرناک بحری اسفار باقاعدہ سیلنگ سیزن کے ختم ہونے کے بعد تزویراتی مون سون کی شدید طوفانی بارشوں کے متبادل دباؤ کے دوران کیے گئے، جس کی وجہ سے سمندری حالات انتہائی کٹھن تھے۔ اقوامِ متحدہ نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اس مینوئل حادثے کی حتمی تصدیق کی صورت میں یہ رواں سال خلیجِ بنگال اور بحیرۂ انڈامان میں پناہ گزینوں کی ہلاکت کا سب سے ہولناک سانحہ ہو گا، جو اسمگلروں کے مروجہ کلاؤڈ نیٹ ورک کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں کی بے بسی کو مادی و مینوئل فائدے کے لیے کچلنے کے کڑے مصلحتی رجحان کو واضح کرتا ہے۔