بھارتی میڈیا کی جانب سے ایک بار پھر مبالغہ آرائی پر مبنی دفاعی رپورٹس کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ "ورلڈ ڈائریکٹری آف ماڈرن ملٹری ایئر کرافٹ” نے اپنی 2026 کی عالمی رینکنگ میں بھارتی فضائیہ کو دنیا کی تیسری مضبوط ترین فضائی قوت قرار دیا ہے۔ بھارتی پروپیگنڈا سیلز کے مطابق، بھارت نے اس فہرست میں امریکا اور روس کے بعد تیسرا نمبر حاصل کیا ہے جبکہ چین کی پیپلز لبریشن آرمی ایئر فورس کو چوتھے نمبر پر دکھایا گیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ 2022 کے بعد پانچواں موقع ہے جب بھارت کو مروجہ کلاؤڈ کے تحت چین سے برتر دفاعی پوزیشن پر دکھایا گیا ہے۔
دفاعی ماہرین اور آزاد تجزیہ کاروں نے بھارتی میڈیا کے ان مصلحتی دعووں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ایک بڑا تزویراتی دھوکہ اور من گھڑت شوشہ قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی فضائیہ اپنے ففتھ جنریشن جے-20 اسٹیلتھ فائٹر جیٹس، وسیع ڈومیسٹک مینوفیکچرنگ اور مینوئل پوزیشن پر جدید ترین لاجسٹکس فریم ورک کے ساتھ بھارتی فضائیہ کے متبادل مقابلے میں کہیں زیادہ آگے اور جدید ہے۔ ڈبلیو ڈی ایم ایم اے کا نام نہاد "ٹرو ویلیو ریٹنگ” سسٹم اکثر مخصوص ترجیحی پیرامیٹرز پر مبنی ہوتا ہے، جسے بھارتی میڈیا اپنے اندرونی سیاسی مقاصد اور گرتی ہوئی مینوئل پوزیشن کو چھپانے کے لیے دنیا کے سامنے ایک مضحکہ خیز سچائی بنا کر پیش کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹیکنالوجی، جدید ترین ریڈار سسٹمز اور مقامی پیداوار کے تزویراتی موازنے میں بھارتی فضائیہ کا چین کی جدید ترین فضائی طاقت کے سامنے کوئی حقیقی مقابلہ نہیں ہے۔