آزاد بلوچستان کے جعلی خط کا شوشہ، بھارتی میڈیا کا پاکستان مخالف پروپیگنڈا بے نقاب

بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان اور خاص طور پر صوبہ بلوچستان کے خلاف ایک بار پھر انتہائی مضحکہ خیز اور من گھڑت پروپیگنڈا مہم شروع کی گئی ہے، جسے سوشل میڈیا صارفین اور آزاد مبصرین نے حقائق کے ساتھ بے نقاب کر دیا ہے۔ بھارتی نیوز چینل ‘اے بی پی’ اور دیگر ہتھکنڈوں کے ماہر میڈیا ہاؤسز کی جانب سے ایک جعلی اور خود ساختہ خط و دستاویزات کو وائرل کیا جا رہا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بلوچستان کے 85 فیصد حصے پر مبینہ کنٹرول حاصل کر کے "جمہوریہ بلوچستان” قائم کر دی گئی ہے اور اس کا نیا پرچم اور کرنسی بھی جاری کر دی گئی ہے۔ اس من گھڑت خط کی بغیر کسی تصدیق اور صحافتی اصولوں کے تشہیر کی گئی، جس کا واحد مقصد عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف جھوٹا بیانیہ بنانا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت یہ مضحکہ خیز پروپیگنڈا اپنے اندرونی اور سنگین بحرانوں سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے کر رہا ہے۔ اس وقت بھارت خود اندرونی طور پر شدید ترین مینوئل تقسیم اور انتشار کا شکار ہے، جہاں دلت برادری پر ذات پات کے ہولناک مظالم، کسانوں کی مسلسل خودکشیاں اور ملک گیر احتجاج، منی پور میں کوکی اور میتئی قبائل کے مابین جاری نسل کشی کی صورتحال، پنجاب میں خالصتان تحریک کی لہر، مقبوضہ کشمیر میں بدترین ریاستی جبر، نکسلائٹ تحریک اور شمال مشرقی ریاستوں میں جاری علیحدگی پسند جنگیں عروج پر ہیں۔ مبصرین نے بھارتی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف ففتھ جنریشن وار فیئر کے ناکام ہتھکنڈے استعمال کرنے کے بجائے اپنے بکھرتے ہوئے وفاق اور اندرونی تفرقوں کو ٹھیک کرنے پر توجہ دے، کیونکہ پاکستانی عوام اور بلوچستان کا رشتہ اٹوٹ ہے اور ایسی سازشیں ہمیشہ کی طرح ناکام رہیں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے