جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے کراچی میں بلدیاتی اختیارات اور صوبائی مالیاتی تقسیم کے حوالے سے ایک سخت موقف اپنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 40 برسوں سے یہاں کی سیاسی قوتیں لوگوں کو آپس میں لڑاتی رہی ہیں اور سندھی مہاجر کی مصنوعی تقسیم پیدا کر کے اپنے مفادات حاصل کرتی رہی ہیں، لیکن انہوں نے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے عملاً کچھ نہیں کیا۔ حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ جماعتِ اسلامی پہلے دن سے یہ بات کہہ رہی ہے کہ اگر مقامی حکومتوں کا بلدیاتی نظام بہتر طریقے سے کام کرے اور اسے مکمل مالیاتی، سیاسی اور انتظامی اختیارات منتقل کر دیے جائیں، تو وفاق اور صوبوں کے درمیان جاری تمام تنازعات اور اختیارات کی جنگ خود بخود ختم ہو جائے گی۔
انہوں نے صوبائی حکومت پر مالیاتی ناانصافی کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ وفاق سے صوبوں کو ملنے والے بجٹ میں سے کراچی کا جائز حصہ بلدیاتی حکومتوں کو منتقل نہیں کیا جا رہا۔ حافظ نعیم الرحمٰن کے مطابق، گزشتہ 15 سالوں کے دوران سندھ حکومت نے کراچی کے حصے کے 3 ہزار 3 سو 60 ارب روپے روک رکھے ہیں اور یہ خطیر رقم شہر کو نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب اتنے بڑے فنڈز روک لیے جائیں گے تو شہر میں ترقیاتی کام کیسے ممکن ہوں گے؟ انہوں نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 140-اے (Article 140-A) کے نفاذ پر زور دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تمام تر مالی، سیاسی اور انتظامی اختیارات بلدیاتی نمائندوں کو منتقل کیے جائیں تاکہ شہر کے مسائل مستقل بنیادوں پر حل ہو سکیں۔