شہرِ قائد کے شہریوں اور کاروباری حلقوں پر مالی بوجھ بڑھانے کے لیے بلدیہ عظمیٰ کراچی (کے ایم سی) نے ایک نئے ٹیکس کے نفاذ کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، کے ایم سی کی جانب سے "انٹرٹینمنٹ ٹیکس – سٹی ٹورازم اینڈ ہاسپیٹیلٹی” کے نام سے ایک نیا ٹیکس متعارف کرایا جا رہا ہے، جسے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں باقاعدہ منظور کرانے کا ارادہ ہے۔
اس نئے ٹیکس نیٹ کے تحت ہاسپیٹیلٹی اور تفریحی شعبے سے وابستہ متعدد کاروباروں کو شامل کیا گیا ہے:
ٹیکس کی شرح اور دائرہ کار: یہ ٹیکس ہوٹلز، گیسٹ ہاؤسز، لاجز، میرج ہالز، مارکیز، میرج لانز، ایئر بی این بیز (Airbnb) اور میرج بینکوئٹس پر لاگو ہوگا۔ ان تمام مقامات پر صارفین کے کل بل کا 1 فیصد (1%) انٹرٹینمنٹ ٹیکس کی مد میں وصول کیا جائے گا۔
حکومتی مؤقف: میونسپل کمشنر کے ایم سی، ابرار جعفر کے مطابق سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت بلدیہ عظمیٰ کراچی کوئی بھی ٹیکس، ٹول یا فیس عائد کرنے کا قانونی مجاز ہے۔ اس نئے ٹیکس کا مقصد کے ایم سی کے شعبہ سیاحت کی مالیاتی پوزیشن کو مستحکم بنانا اور شہر میں بہتر خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
میونسپل کمشنر نے اس نئے ٹیکس گزٹ اور اس کے بائی لاز پر شہریوں اور اسٹیک ہولڈرز سے باقاعدہ رائے اور اعتراضات طلب کر لیے ہیں۔ ٹیکس کے نفاذ پر اعتراضات کی سماعت 10 جون کو بلدیہ عظمیٰ کراچی کے دفتر میں ہوگی، جہاں سینئر ڈائریکٹر کوآرڈینیشن کے ایم سی بلڈنگ کے دفتر میں متاثرہ فریقین کے تحفظات سنے جائیں گے۔


