عید الاضحیٰ گزرنے کے ایک ہفتے بعد بھی صوبائی دارالحکومت کراچی کے متعدد علاقے شدید تعفن اور گندگی کی لپیٹ میں ہیں، جس نے شہریوں کا جینا محال کر دیا ہے۔ بلدیاتی اداروں اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے دعووں کے برعکس، شہر کی کئی اہم شاہراہوں، گلیوں اور کچرا کنڈیوں میں قربانی کے جانوروں کی آلائشیں اور اوجھڑیاں اب بھی سڑ رہی ہیں۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق، گلستانِ جوہر، گلشنِ اقبال، ملیر، اور ناظم آباد سمیت مختلف اضلاع کے اندرونی علاقوں میں صفائی کی صورتحال انتہائی ابتر ہے۔ شدید گرمی اور حبس کے باعث ان سڑتی ہوئی آلائشوں سے اٹھنے والی بو نے پورے ماحول کو زہریلا بنا دیا ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف سانس لینا دشوار ہو گیا ہے بلکہ مکھیوں اور مچھروں کی بھرپور افزائش ہو رہی ہے۔ شہریوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے بروقت اقدامات نہ ہونے کے باعث تعفن کی وجہ سے مختلف وبائی اور جلدی امراض پھیلنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کاغذی کارروائیوں کے بجائے فوری طور پر عملی اقدامات کر کے شہر کو اس تعفن سے نجات دلائی جائے۔


