پاک-ایران سرحدی علاقے تفتان میں سیکیورٹی کے حوالے سے ایک انتہائی افسوسناک اور سنگین واقعہ پیش آیا ہے، جہاں نامعلوم مسلح جرائم پیشہ افراد نے فائرنگ کر کے تجارتی سامان سے لادے ہوئے متعدد ٹرکوں کو آگ لگا دی ہے۔ ایکسپریس نیوز کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق، اس بزدلانہ حملے کے نتیجے میں لاکھوں روپے مالیت کا قیمتی تجارتی سامان اور گاڑیاں جل کر خاکستر ہو گئیں، جس سے سرحدی تجارت سے وابستہ کاروباری حلقوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، یہ ٹرک پاک-ایران بارڈر کے راستے تجارتی سامان لے کر مروجہ روٹس پر گامزن تھے کہ گھات لگائے مسلح افراد نے ان پر حملہ کر دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، حملہ آوروں نے پہلے ٹرکوں کو زبردستی روکا، ڈرائیوروں اور عملے کو نیچے اتارا اور پھر پیٹرول چھڑک کر گاڑیوں کو آگ کے حوالے کر دیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی لیویز فورس، فرنٹیر کونسلری (FC) اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر ملوث مفرور ملزمان کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
سرحدی حکام اور تاجر برادری نے اس سفاکانہ واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے پاک-ایران تجارتی تعلقات اور سیکیورٹی کو سبوتاژ کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ تفتان روٹ پر سیکیورٹی کو مزید سخت کیا جائے اور سامان لے جانے والے قافلوں کو فول پروف تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے معاشی و جانی نقصان کے خطرات سے بچا جا سکے۔ انتظامیہ نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے باریک بینی سے تفتیش شروع کر دی ہے۔


