امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ، ایران اور علاقائی طاقتوں کے درمیان ایک بڑا امن معاہدہ بڑے پیمانے پر طے پا چکا ہے، جو اب محض حتمی منظوری اور حتمی شکل دیے جانے کے آخری مراحل میں ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس تاریخی ڈرافٹ معاہدے کے تحت خلیج میں بحری آمدورفت کے لیے انتہائی اہم ‘اسٹریٹ آف ہارمز’ (آبنائے ہرمز) کو دوبارہ کھولنا بھی شامل ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق، اس معاہدے کے آخری پہلوؤں اور تکنیکی تفصیلات پر اب بھی بات چیت جاری ہے، جسے بہت جلد مکمل کر کے دنیا کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔
اس بڑی عالمی اور سفارتی پیش رفت کے سامنے آتے ہی مشرقِ وسطیٰ اور مغربی ایشیاء میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ امریکی انتظامیہ کے مطابق، اس امن معاہدے کو پائیدار بنانے اور خطے کی صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر سمیت اپنے کئی اہم علاقائی شراکت داروں کے ساتھ باقاعدہ رابطہ کیا ہے اور انہیں اس معاملے پر اعتماد میں لیا ہے۔
دوسری جانب، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز کے بحران کو حل کرنے اور ایران کے ساتھ مذاکرات میں انتہائی مثبت پیش رفت ہوئی ہے، جو ایران کی جانب سے معاہدے کی شرائط کی مکمل تعمیل سے مشروط ہے۔ پاکستانی حکام نے بھی اس عالمی سفارتی مہم کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے خاتمے سے عالمی اور علاقائی امن کو فروغ ملے گا۔


