اسلام آباد: عالمی سفارت کاری کا مرکز اور امریکہ-ایران مذاکرات کا اہم پڑاؤ
اسلام آباد اس وقت عالمی سیاست کے نقشے پر سب سے اہم مقام بن چکا ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری شدید تناؤ کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کا دوسرا دور منعقد ہو رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں ایک انتہائی بااثر وفد پاکستان روانہ کیا ہے، جس میں سابق صدر کے قریبی مشیر جیریڈ کشنر اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایلچی اسٹیو وٹکوف شامل ہیں۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیج عمان میں بحری جہازوں پر فائرنگ اور ناکہ بندی نے عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
پاکستان اس وقت ایک "ایماندار ثالث” کے طور پر اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں سکیورٹی کو ریڈ الرٹ کر دیا گیا ہے اور وفاقی دارالحکومت میں 18,000 سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ مذاکرات کا پہلا دور بغیر کسی بڑے نتیجے کے ختم ہوا تھا، لیکن اس بار امریکی وفد کی سطح اور پاکستان کی پسِ پردہ سفارت کاری نے امیدیں روشن کر دی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ایران کو ایک طرف ‘منصفانہ ڈیل’ کی پیشکش کی ہے تو دوسری طرف ایرانی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی ہے، جس سے ان مذاکرات کی حساسیت مزید بڑھ گئی ہے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق، ان مذاکرات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ دونوں فریقین کس حد تک لچک کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایران نے فی الحال اپنی شرکت کے حوالے سے محتاط رویہ اپنایا ہے، تاہم اسلام آباد میں غیر ملکی وفود کی آمد شروع ہو چکی ہے۔ پاکستان کا مقصد خطے میں کسی بھی ممکنہ جنگ کو روکنا اور عالمی تجارتی راستوں، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ دنیا بھر کے ممالک اس وقت اسلام آباد کی طرف دیکھ رہے ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والے فیصلے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور سیاست کا رخ بھی متعین کریں گے۔


