اسلام آباد: حکومتی ہیلتھ کارڈ اسکیم کے آڈٹ نے اس پروگرام میں سنگین بدعنوانیوں اور مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا ہے، جس سے لاکھوں عوامی رقم کے غلط استعمال اور شفافیت کے فقدان پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
آڈٹ حکام کا کہنا ہے کہ اسکیم کے نفاذ کے دوران قیمتوں کی مبینہ جان بوجھ کر زیادتی، نامناسب طور پر ادائیگیاں، اور ضابطوں کے خلاف واجبات کے اجرا جیسے امور سامنے آئے ہیں، جن کی وجہ سے صحت کارڈ پروگرام کے اصل مقاصد متاثر ہوئے ہیں۔ یہ اسکیم عوام کو مفت یا سستی طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے شروع کی گئی تھی، لیکن آڈٹ رپورٹ اس کی کارکردگی پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کرتی ہے۔
آڈٹ کے مطابق بہت سی رپورٹس میں غیر ضروری بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں مریضوں کے علاج کے نام پر غیر قانونی دعوے سامنے آئے، اور کچھ مقامات پر مبینہ طور پر جھوٹی انٹریز اور جعلی بلنگ کی گئی۔ آڈٹ ٹیم نے متعلقہ حکام کو اصلاحات اور منیجمنٹ کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے ہدایات جاری کی ہیں۔
صحت کارڈ اسکیم کے منتظمین نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ آڈٹ رپورٹ کو سنجیدگی سے لیا گیا ہے، اور اسے شفافیت کے فروغ اور عوامی پیسوں کے مؤثر استعمال کے لیے ایک موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رپورٹ میں نشاندہی کیے گئے تمام نکات پر تحقیقات جاری ہیں اور احتساب کے عمل کو تیز کیا جائے گا۔


