کراچی کے مختلف علاقوں میں اتوار کے روز پیش آنے والے ٹریفک کے دو بڑے حادثات میں کم از کم دو افراد جاں بحق اور ایک شدید زخمی ہو گیا۔ پہلا افسوسناک واقعہ ماڑی پور ٹرک اڈا کے قریب پیش آیا جہاں ایک تیز رفتار لوڈنگ ٹرک نے موٹر سائیکل کو زوردار ٹکر ماری۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے کے نتیجے میں 30 سالہ حسنین زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا، جبکہ اس کا ساتھی 28 سالہ زید شدید زخمی ہوا۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر ٹرک ڈرائیور کو حراست میں لے لیا اور گاڑی قبضے میں لے کر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
دوسرا المناک حادثہ سپر ہائی وے ٹول پلازہ کے قریب پیش آیا، جہاں 17 سالہ عبداللہ نامی نوجوان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ عینی شاہدین اور ریسکیو حکام کے مطابق عبداللہ اپنے دو دوستوں کے ساتھ موٹر سائیکل پر جا رہا تھا کہ یو ٹرن کے قریب سڑک پر گرے ہوئے تیل کے باعث موٹر سائیکل پھسل گئی۔ اسی دوران پیچھے سے آنے والے ایک تیز رفتار ڈمپر نے نوجوان کو کچل دیا جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ڈمپر ڈرائیور حادثے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا جس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ مقتول نیو کراچی کا رہائشی تھا اور اس کی میت قانونی کارروائی کے لیے عباسی شہید ہسپتال منتقل کی گئی۔
کراچی کی ان مصروف شاہراہوں پر بڑھتے ہوئے حادثات نے ایک بار پھر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور سڑکوں کی ناقص صورتحال پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ خاص طور پر سڑکوں پر تیل کا پھیلنا اور بھاری گاڑیوں کی بے ہنگم رفتار شہریوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے ان حادثات کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کے زیاں کو روکا جا سکے۔ پولیس نے دونوں واقعات کی الگ الگ ایف آئی آر درج کر کے مزید تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔


