پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت کرتے ہوئے جنگ بندی کا فریم ورک دونوں ممالک کے ساتھ شیئر کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس منصوبے کا مقصد فوری جنگ بندی اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس مجوزہ منصوبے کے تحت فوری سیز فائر نافذ کیا جائے گا اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجویز دی گئی ہے، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 15 سے 20 دن کے اندر ایک جامع معاہدے کو حتمی شکل دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔
یہ فریم ورک، جسے غیر رسمی طور پر "اسلام آباد معاہدہ” کہا جا رہا ہے، دو مرحلوں پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے میں فوری جنگ بندی جبکہ دوسرے مرحلے میں وسیع تر مذاکرات کے ذریعے مستقل امن کی راہ ہموار کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق تاحال امریکا اور ایران کی جانب سے اس تجویز پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سفارتی سطح پر رابطے جاری ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں جنگی صورتحال کے باعث نہ صرف سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں بلکہ عالمی معیشت، خاص طور پر تیل کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ فریم ورک کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر استحکام کے لیے ایک بڑا قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان اس معاملے میں ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور مختلف عالمی و علاقائی طاقتوں کے درمیان رابطوں کو فروغ دے رہا ہے تاکہ تنازع کو پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔


