وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے کیے گئے بروقت اور فیصلہ کن اقدامات نے پاکستان کو عالمی فیول بحران کے شدید اثرات سے بڑی حد تک محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑے۔
رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نے متعدد مواقع پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد کرتے ہوئے حکومت کو ہدایت دی کہ عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے ریاست خود مالی بوجھ برداشت کرے۔ ایک موقع پر حکومت نے 56 ارب روپے کا اضافی بوجھ خود اٹھایا تاکہ عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
اسی طرح حکومت نے پیٹرولیم لیوی میں کمی، سبسڈی پروگرامز، اور توانائی بچت اقدامات بھی متعارف کروائے، جن کا مقصد مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنا اور عام شہری کو سہولت دینا تھا۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے حساب سے پاکستان میں پیٹرول کی قیمت کہیں زیادہ ہونی چاہیے تھی، لیکن حکومت نے عوامی مفاد میں اسے کم سطح پر برقرار رکھا۔
مزید برآں، حکومت نے اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کریک ڈاؤن، اور فیول سپلائی چین کو مستحکم بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران سے نمٹا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدامات وقتی ریلیف فراہم کرنے میں مؤثر ثابت ہوئے، تاہم طویل مدتی حل کے لیے توانائی کے متبادل ذرائع اور معاشی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ موجودہ صورتحال میں حکومت کی ترجیح عوام کو فوری ریلیف دینا اور معیشت کو مستحکم رکھنا ہے۔


