ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) ایران کے خلاف جاری جنگ میں شامل ہو گیا ہے، تاہم اس حوالے سے تاحال کسی آزاد یا بین الاقوامی ذریعے سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ایرانی نشریاتی ادارے کے مطابق دو مبینہ شواہد کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا گیا ہے، جن میں ایک ڈرون کی تباہی اور ایک جنگی طیارے کی سرگرمی شامل ہے، جسے ایران نے اماراتی شمولیت کا ثبوت قرار دیا ہے۔
دوسری جانب اب تک متحدہ عرب امارات کی جانب سے اس دعوے کی تصدیق یا واضح ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ماضی میں بھی ایسے کئی الزامات سامنے آئے ہیں جنہیں بعد میں متعلقہ ممالک نے مسترد کیا یا ان کی وضاحت دی گئی۔
خطے میں جاری کشیدگی کے دوران صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے، جہاں ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں، جس سے علاقائی تناؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یو اے ای واقعی جنگ میں عملی طور پر شامل ہوتا ہے تو یہ تنازع کو مزید وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل کر سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت، خاص طور پر تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر پڑ سکتے ہیں۔
تاہم موجودہ صورتحال میں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا یہ دعویٰ حقیقت پر مبنی ہے یا محض اطلاعاتی جنگ کا حصہ، کیونکہ جنگی حالات میں اکثر فریقین کی جانب سے پروپیگنڈا اور متضاد بیانات بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔


