نیشنل سرٹ کے سربراہ ڈاکٹر حیدر عباس کا یہ انکشاف اور پیش کردہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں ریاستی سطح پر معاشی، دفاعی اور حساس سرکاری ڈیٹا ہیک کرنے کے لیے ‘سائبر وارفیئر’ کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے۔ پاکستان کے سرکاری محکموں، مالیاتی اداروں اور توانائی و مواصلات کے بنیادی ڈھانچے کو بارہا غیر ملکی ہیکنگ گروپس کی جانب سے نشانہ بنانے کی کوششیں کی جا چکی ہیں۔
رواں سال 400 سے زائد سائبر حملوں کو بروقت ناکام بنانا پاکستانی سائبر ڈیفنس کی ایک اہم پیشرفت تو ہے، لیکن موجودہ دور میں مختلف وزارتوں اور اداروں میں بکھرے ہوئے سائبر فریم ورکس کی وجہ سے ایک یکجا اور بااختیار باڈی کی کمی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر حیدر عباس کی جانب سے وزیراعظم پاکستان کی سربراہی میں ‘نیشنل سائبر سکیورٹی اتھارٹی’ قائم کرنے کی تجویز کا مقصد یہی ہے کہ تمام سول و عسکری سائبر سکیورٹی ونگز کو ایک ہی خودمختار مرکز سے کنٹرول کیا جائے تاکہ ریاستی ڈیٹا کی حفاظت اور فوری ردِعمل کا نظام بین الاقوامی معیار کے مطابق کام کر سکے۔